تسلسل کے صحرا میں

تسلسل کے صحرا میں ریگ و ہوا، پاؤں کی چاپ

سمت و صدا

تغیر کا تنہا نشاں؛

تسلسل کے صحرائے جاں سوختہ میں

صدائیں بدلتے مہ و سال

ہوائیں گزرتے خدوخال

تنہا نشانِ فراق و وصال

تسلسل کے صحرا میں

اک ریت ٹیلے کی آہستہ آہستہ ریزش

کسی گھاس کے نامکمل جزیرے میں اک جاں بلب

طائرِ شب کی لرزش

کسی راہ بھٹکے عرب کی سحر گاہ حمد و ثنا

تسلسل کے بے اعتنا رات دن میں تغیر کا

تنہا نشاں۔۔۔ محبت کا تنہا نشاں!

صبا ہو کہ صرصر کہ بادِ نسیم

درختوں کی ژولیدہ زلفوں میں بازی کناں

اور ذرّوں کے تپتے ہوئے سرخ ہونٹوں

سے بوسہ ربا

جب گزرتی ہے، بیدار ہوتے ہیں اس کی صدا

سے بدلتے ہوئے حادثوں کے نئے سلسلے

نئے حادثے جن کے دم سے تسلسل کا رویا یقیں

نئے حادثے جن کے لطف و کرم کی نہایت نہیں!

تسلسل کے صحرا میں میرا گزر کل ہوا

تو یادیں نگاہوں کے آگے گزرتے ہوئے رہگزر

بن گئیں:

پہاڑوں پہ پانی کے باریک دھارے

فرازوں سے اترے، بہت دور تک دشت و در

میں مچلتے رہے، پھر سمندر کی جانب بڑھے

اور طوفاں بنے،

اُن کی تاریک راتیں سحر بن گئیں!

ازل کے درختوں میں سیبوں کے رسیا

ہمارے جہاں دیدہ آبا

درختوں سے اُترے، بہت دُور تک دشت و در

میں بھٹکتے رہے، پھر وہ شہروں کی جانب بڑھے

اور انساں بنے، ہر طرف نور باراں بنے

وہ سمت و صدا جو سفر

کا نشاں تھیں

وہی منتہائے سفر بن گئیں!

تسلسل کے صحرا میں ریگ و ہوا، پاؤں کی چاپ

سمت و صدا

تسلسل کا رازِ نہاں، تغیر کا تنہا نشاں

محبت کا تنہا نشاں

ن م راشد