بے پر و بال

جب کسی سلطنتِ گم شدہ کے خواب

کبھی اشک، کبھی قہقہہ بن کر دلِ رہرو کو لبھاتے جائیں،

(نیم شب کون ہے آوارہ دعاؤں کی طرح

لو چلے آتے ہیں وہ عقدہ کشاؤں کی طرح)

اور وہ راہروِ سادہ کسی اشک، کسی قہقہے کی تہہ میں

سینہ خاک نشینوں کی نوا سُن نہ سکے ۔۔۔

ہم ہیں وہ جن پہ نظر ڈالی ہے سلطانوں نے

ہیں کہاں اور گدا ہم سے گداؤں کی طرح؟

جن سے ہیں آج بھی گلیوں کے شبستاں روشن

کسی جبّار کے کوَڑوں کی صدا سن نہ سکے

(بندگی کام ہے اور بندہ ءِ دولت ہم ہیں ۔۔۔)

منہ پہ اوڑھے ہوئے دستور کا کوتہ دامن

(تُو خداوند ہے کرامر خداؤں کی طرح)

اور اجڑے ہوئے سینوں کا خلا سن نہ سکے

سنسناتے ہوئے ارمانوں کے جن میں ۔۔۔

(شبِ تنہائی در و بام ڈراتے ہیں مجھے

دل میں اندیشے اترتے ہیں بلاؤں کی طرح

ہم سے کیوں خانہ خرابی کا سبب پوچھتے ہو؟

کس نے اس دور میں ڈالی ہے جفاؤں کی طرح)

گو زمانے کا ہر اک نقش، ہر اک چیز سرِ رہگزرِ باد سہی

یاد اِک وہم سہی، یاد تمناؤں کی فریاد سہی

سر سے ڈھل جائے کہیں راحتِ رفتہ کا خمار

شامِ دارائی کا آسودہ غبار؟

جب کسی سلطنتِ گم شدہ کے خواب

کبھی اشک، کبھی قہقہہ بن کر دلِ رہرو کو لبھاتے جائیں

وہ کبھی سرخیِ دامن میں

کبھی شوقِ سلاسل میں

کبھی عشق کی للکار میں لوٹ آتے ہیں

بے پر و بالیِ انساں کی شبِ تار میں لوٹ آتے ہیں

جی کے آزار میں لوٹ آتے ہیں

ن م راشد