بے مہری کے تابستانوں میں

بے مہری، بے گانہ پن کے تابستانوں میں

ہر سو منڈلانے لگتے ہیں زنبورِ اوہام

اور ساتھ اپنے اک ابدیت لاتے ہیں

شہروں پر خلوت کی شب چھا جاتی ہے

غم کی صرصر تھرّاتی ہے ویرانی میں

اونچے طاقتور پیڑوں کے گرنے کی آوازیں آتی ہیں

میدانوں میں!

بے مہری بے گانہ پن کے تابستانوں میں

جس دم منڈلانے لگتے ہیں زنبورِ اوہام

جب ہم اپنی روحوں کو

لا ڈالتے ہیں یوں غیریت کے دو راہوں میں

روحیں رہ جاتی ہیں جسموں کے نم دیدہ پیراہن

یا جسموں کے بوسیدہ اترن

ہر بے مہری کے ہنگام!

کیا یہ کہنا جھوٹ تھا، اے جاں:

انساں سب سے بیش بہا ہے،

کیوں اُس کی رسوائی ہو

بے بصری کے بازاروں کی بے مایہ دکانوں میں؟ ۔۔۔

کیا یہ کہنا جھوٹ تھا، اے جاں:

ہم سب فرد ہیں، ہم پر اپنی ذات سے بڑھ کر

کس آمر کی دارائی ہو؟ ۔۔۔

کیا یہ کہنا جھوٹ تھا، اے جاں:

۔۔۔ ہم سب ہست ہیں، ہم کیوں جاں دیں

مذہب اور سیاست کے نابودوں پر؟

موہوموں کی فوقیت دیں

آگاہی کی آنکھوں سے، موجودوں پر؟

بے مہری کے زنبور گئے تو

ذہنِ اوہامِ باطن کی

شوریدہ فصیلوں سے نکلے

غم کے آسیب ایذا کے

نادیدہ وسیلوں سے نکلے

پھر ہم لحنِ آب و زمیں کی

قندیلوں سے سرشار ہوئے

ہم نے دیکھا، ہم تم گویا تاک سے پُر ہیں

ہم تم اس خورشید سے پر ہیں

آہنگِ حرف و معنی کے

ذرّے جس کے دامن میں

ہم تم شیوہ ءِ باراں سے پر ہیں

آہنگِ حرف و معنی کے

نغمے جس کے دامن میں

ہم دریا سے پُر ہیں

ہم ساحل سے پر ہیں

ہم موجوں سے پر ہیں

ہم ایک بشارت سے پر ہیں!

ن م راشد