بے سُرا الاپ

وہ صحن جن سے پلٹ گئی تھی

دھنک کی خوشبو

وہاں ابھی تک درخت اپنی برہنگی میں

پکارتے ہیں۔۔

پکارتے ہیں:

’’دھنک کی خوشبو

وہ خواب لا دے

کہ جن سے بھر جائیں رات بھر میں

سبو ہمارے‘‘

وہ چاند، کل شب،

جسے ہم اپنے دلوں کے پیالوں

میں قطرہ قطرہ

انڈیلتے رہ گئے تھے، اُس کو

ہنسی ہنسی میں

ابھی کوئی شخص، لمحہ پہلے،

چڑھا کے پیالہ پٹک گیا ہے ۔۔

یہ دیکھتے ہی

گلی کا ملّا بہت ہی رویا:

’’خلا سے کچھ عرش کی خبر بھی؟‘‘

(نفی میں کیسے نفی کا جویا!)

’’وہ چاند کے آر پار۔۔ گویا ۔۔

کہیں نہیں تھا؟

عجیب! گویا کہیں نہیں تھا!‘‘

وہ صحن جن سے پلٹ گئی ہے

دھنک کی خوشبو

وہ اُن میں فردا کی نا رسائی کے اشک

چپ چاپ بو رہا ہے ۔۔۔

وہ ہنس رہا ہے:

’’اگر زمیں گھومتی ہے، کیونکر

یہ لوگ صحنوں کو لوٹ آئے سحر سے پہلے

کوئی پرندہ نہ راہ بھولا سفر سے پہلے؟‘‘

وہ صحن جن سے پلٹ گئی تھی

دھنک کی خوشبو

خلا سے آتی ہوئی صدائیں

اب اُن کے دیوار و بام کو

تھپتھپا رہی ہیں،

ہمارے بوڑھے نزار چہروں پہ لطمہ زن ہیں

کہ رات کے دل فریب رویا

ہمارے سینوں میں

بے سُرا الاپ بن کر

اٹک گئے ہیں!

ن م راشد