بوئے آدم زاد

۔۔۔ بوئے آدم زاد آئی ہے کہاں سے ناگہاں؟

دیو اس جنگلے کے سنّاٹے میں ہیں

ہو گئے زنجیر پا خود اُن کے قدموں کے نشاں!

۔۔یہ وہی جنگل ہے جس کے مرغزاروں میں سدا

چاندنی راتوں میں وہ بے خوف و غم رقصاں رہے

آج اسی جنگل میں اُن کے پاؤں شل ہیں ہاتھ سرد

اُن کی آنکھیں نور سے محروم، پتھرائی ہوئی

ایک ہی جھونکے سے اُن کا رنگ زرد

ایسے دیووں کے لیے بس ایک ہی جھونکا بہت

کون ہے بابِ نبرد؟

۔۔۔ ایک سایہ دیکھتا ہے چھپ کے ماہ و سال کی شاخوں سے آج

دیکھتا ہے بے صدا، ژولیدہ شاخوں سے انہیں

ہو گئے ہیں کیسے اُ س کی بُو سے ابتر حال دیو

بن گئے ہیں موم کی تمثال دیو!

۔۔۔ ہاں اتر آئے گا آدم زاد ان شاخوں سے رات

حوصلے دیووں کے مات!

ن م راشد