بات کر

بات کر مجھ سے

مجھے چہرہ دکھا میرا کہ ہے

تیری آنکھوں کی تمازت ہی سے وہ جھلسا ہوا

بات کر مجھ سے

مرے رخ سے ہٹا پردہ

کہ جس پر ہے ریا کاری کے رنگوں کی دھنک

پھیلی ہوئی

وہ دھنک جو آرزو مندی کا آیئنہ نہیں

بامداد شوق کا زینہ نہیں!

(تو نے دیکھا تھا کہ کل میں (اک گداگر

صبح کی دیوار کے سائے تلے

ٹھٹھرا ہوا پایا گیا

تیری آنکھیں، تیرے لب تکتے رہے

ان کی گرمی پر یقیں کیسے مجھے آتا کہ میں

اپنے دل کے حادثوں کی تہہ میں تھا

یادوں سے غزلایا ہوا!

بات کر مجھ سے

کہ اب شب کے سحر بننے میں

کوئی فاصلہ باقی نہیں

بات کر مجھ سے کہ تیری بات

خطّ نسخ ہو بر روئے مرگ

اب اتر جا چشم و گوش و لب کے پار

اجڑے شہروں کی گزرگاہوں پہ

آوازوں کی قندیلیں اتار

راز کی لہریں

ابھر آئیں قطار اندر قطار!

ن م راشد