اے وطن اے جان

اے وطن، اے جان

تیری انگبیں بھی اور خاکستر بھی میں

میں نے یہ سیکھا ریاضی سے ادب بہتر بھی ہے برتر بھی ہے

خاک چھانی میں نے دانش گاہ کی

اور دانش گاہ میں بے دست و پا درویش حُسن و فہم کے جویا ملے

جن کو تھی میری طرح ہر دستگیری کی طلب

دستگیری کی تمنّا سالہا جارہی رہی

لیکن اپنے علم و دانش کا ثمر اس کے سوا کچھ بھی نہ تھا

سر تہی نقلی خدا تھے خیر و قوّت کا نشاں

اور انساں، اہلِ دل انساں شریر و ناتواں

اے وطن ترکے میں پائے تُو نے وہ خانہ بدوش

جن کو تھی کہنہ سرابوں کی تلاش

اور خود ذہنوں میں اُن کے تھے سراب

جس سے پسپائی کی ہمت بھی کبھی ان میں نہ تھی

اے وطن کچھ اہلِ دیں نے اور کچھ انساں پرستوں نے تجھے اِنشا کیا

عالمِ سکرات سے پیدا کیا

تاکہ تیرے دم سے لوٹ آئے جہاں میں عفّتِ انساں کا دَور!

دشمن اُس خواہش پہ خندہ زن رہے اور دوست اس پر بدگماں

اے وطن اے جان تُو نے دوست اور دشمن کا دل توڑا نہیں

ہم ریاضی اور ادب کو بھول کر

سیم و زر کی آز کے ریلے میں یوں بہتے رہے

جیسے ان بپھری ہوئی امواج کا ساحل نہ ہو

اُس یقیں کا اس عمل کا اس محبت کا یہی حاصل تھا کیا؟

اے وطن، اے جان ہر اک پل پہ تو استادہ ہے

بن گیا تیری گزرگاہ اک نیا دورِ عبور

یوں تو ہے ہر دورِ نَو بھی ایک فرسودہ خیال

حرف اور معنی کا جال!

آج لیکن اے وطن، اے جاں تجھے

اور بھی پہلے سے بڑھ کر حرف و معنی کے نئے آہنگ کی ہے جستجو

پھر ریاضی اور ادب کے ربطِ باہم کی طلب ہے رُوبرو!

ن م راشد