اے غزال شب!

اے غزال شب،

تری پیاس کیسے بجھاؤں میں

کہ دکھاؤں میں وہ سراب جو مری جاں میں ہے؟

وہ سراب ساحرِ خوف ہے

جو سحر سے شام کے رہ گزر میں فریبِ رہرو سادہ ہے

وہ سراب زادہ، سراب گر، کہ ہزار صورتِ نوبنو

میں قدم قدم پہ ستادہ ہے،

وہ جو غالب و ہمہ گیر دشتِ گماں میں ہے

مرے دل میں جیسے یقین بن کے سما گیا

مرے ہست و بود پہ چھا گیا!

اے غزالِ شب،

اُسی فتنہ کار سے چھپ گئے

مرے دیر و زود بھی خواب میں

مرے نزد و دُور بھی حجاب میں

وہ حجاب کیسے اٹھاؤں میں جو کشیدہ قالبِ دل میں ہے

کہ میں دیکھ پاؤں درونِ جاں

جہاں خوف و غم کا نشاں نہیں

جہاں یہ سرابِ رواں نہیں،

اے غزالِ شب!

ن م راشد