اے سمندر

اے سمندر،

پیکرِ شب، جسم، آوازیں

رگوں میں دوڑتا پھرتا لہو

پتھروں پر سے گزرتے

رقص کی خاطر اذاں دیتے گئے

اور میں، مرتے درختوں میں نہاں

سنتا رہا ۔۔

ان درختوں میں مرا اک ہاتھ

عہدِ رفتہ کے سینے پہ ہے

دوسرا، اِک شہرِ آیندہ میں ہے

جویائے راہ ۔۔۔۔

شہر، جس میں آرزو کی مے انڈیلی جائے گی

زندگی سے رنگ کھیلا جائے گا!

اے سمندر

اے سمندر،

آنے والے دن کو یہ تشویش ہے

رات کا کابوس جو دن کے نکلتے ہی

ہوا ہو جائے گی

کون دے گا اُس کے ژولیدہ سوالوں کا جواب؟

کس کرن کی نوک؟

کن پھولوں کا خواب؟

اے سمندر،

میں گنوں گا دانہ دانہ تیرے آنسو

جن میں آنے والا جشنِ وصل ناآسودہ ہے

جن میں فردائے عروسی کے لیے

کرنوں کے ہار

شہرِ آیندہ کی روحِ بے زماں

چنتی رہی ۔۔

میں ہی دوں گا جشن میں دعوت تجھے

استراحت تیری لہروں کے سوا

کس شے میں ہے؟

رات اِس ساحل پہ غرّاتے رہے

غم زدہ لمحات کے ترسے ہوئے کتوں کی نظریں

چاند پر پڑتی رہیں

اُن کی عَو عَو دور تک لپکی رہی!

اے سمندر،

آج کیونکر، ابر کے اوراقِ کہنہ

بازوئے دیرینہ ءِ امید پر اڑتے رہے

دور سے لائے نرالی داستاں!

چاند کی ٹوٹی ہوئی کشتی کی بانہوں پر رواں!

شہرِ آیندہ کے دست و پا کے رنگ

جیسے جاں دینے پہ سب آمادہ ہوں

دست و پا میں جاگ اٹھے

راگ کے مانند،

میں بھی دست و پا میں جاگ اٹھا!

اے سمندر،

کل کے جشنِ نو کی موج

شہرِ آیندہ کی بینائی کی حد تک آ گئی۔۔

اب گھروں سے،

جن میں راندہ روز و شب

چار دیواری نہیں،

مرد و زن نکلیں گے

ہاتھوں میں اُٹھائے برگ و بار

جن کو چھو لینے سے لوٹ آئے گی رو گرداں بہار!

اے سمندر۔۔

ن م راشد