ایک شہر

یہ سب سے نیا، اور سب سے بڑا اور نایاب شہر

یہاں آکے رکتے ہیں سارے جہاں کے جہاز

یہاں ہفت اقلیم کے ایلچی آ کے گزرتے ہیں

درآمد برآمد کے لاریب چشموں سے شاداب شہر

یہ گلہائے شبوں کی مہکوں سے، محفل کی شمعوں سے، شب تاب شہر

یہ اک بستر خواب شہر

دیبا و سنجاب شہر

یہاں ہیں عوام اپنے فرماں روا کی محبت میں سرشار

بطبیب دلی، قید و بند سلاسل کے ارماں کے ہاتھوں گرفتار

دیوانہ وار

یہاں فکر و اظہار کی حریت کی وہ دولت لٹائی گئی

کہ اب سیم و زر اور لعل و گہر کی بجائے

بس الفاظ و معنی سے

اہل قلم کے، خطیبوں کے، اُجڑے خزانے ہیں معمور

خیالات کا ہے صنم خانہ نقش گر میں وفور

مغنی کے پیچھے فقط چند شوریدہ سر بے شعور

مسافت یہاں صدر سے تابہ نعلین بس ایک دو گام

یہاں میزباں اور مہماں ہیں، ایک ہی شہد کے جام سے شاد کام

کہ یہ شہر ہے، عدل و انصاف میں

اور مساوات میں

اور اخوت میں

مانند حمام

یہاں تخت و پیہم ہوں یا کلاہ گلیم

ہے سب کا وہی ایک رب کریم

ن م راشد