ایک زمزمے کا ہاتھ

ابھرا تھا جو آواز کے نابود سے

اک زمزمے کا ہاتھ

اس ہاتھ کی جھنکار

نئے شہروں کا، تہذیبوں کا

الہام بنے گی

وہ ہاتھ نہ تھا دھات کے اک معبدِ کہنہ

سے چرایا ہوا، تاریخ میں لتھڑا ہوا

اک ہاتھ

وہ ہاتھ خداوندستمگر کا نہیں تھا

وہ ہاتھ گدا پیشہ پیمبر کا نہیں تھا

اس ہاتھ میں [تم دیکھتے ہو]

شمع کی لرزش ہے جوکہتی ہے کہ:

’’آؤ،

شاہراہ پہ بکھرے ہوئے اوراق اٹھاؤ

اس ہاتھ سے لکّھو!‘‘

کہتی ہے کہ :’’آؤ

ہم تم کونئے زینوں کے،

آئینوں کے، باغوں کے

چراغوں کے، محلوں کے، ستونوں کے

نئے خواب دکھائیں

وہ پھول جو صحراؤں میں شبنم سے جدا

[خود سے جدا]

ہانپتے ہیں، ان کے

نئے صحنوں میں انبار لگائیں

الجھے ہوئے لمحات جوافکار

کی دیواروں سے آویختہ ہیں

ان سے نئے ہار بنائیں

سینوں میں اتر جائیں،

پھرافسردہ تمنائیں جلائیں‘‘

کہتی ہے کہ:

’’دو وقت کی روٹی کا سہارا ہے یہی ہاتھ

جینے کا اشارہ ہے یہی ہاتھ

اس ہاتھ سے پھرجام اٹھائیں

پھرکھولیں کسی صبح کی کرنوں کے دریچے،

اس ہاتھ سے آتی ہوئی خوشبوؤں کو

آداب بجا لائیں!‘‘

کہتی ہے کہ:

’’افسوس کی دہلیز پر

اک عشقِ کہن سال پڑا ہے

اس عشق کے سوکھے ہوئے چہرے

پہ ڈھلکتے ہوئے آنسو

اس ہاتھ سے پونچھیں

یہ ہاتھ ہے وہ ہاتھ

جوسورج سے گرا ہے

ہم سامنے اس کے

جھک جائیں دعا میں

کہ یہی زندگی و مرگ کی ہردھوپ میں

ہر چھاؤں میں

الفاظ و معانی کے نئے وصل

کاپیغام بنے گا

ہر بوسے کا الہام بنے گا!‘‘

ن م راشد