’’آپ‘‘ کے چہرے

’’آپ‘‘ ہم جس کے قصیدہ خواں ہیں

وصل البتّہ و لیکن کے سوا

اور نہیں

’’آپ‘‘ ہم مرثیہ خواں ہیں جس کے

ہجر البتّہ و لیکن کے سوا اور نہیں

’’آپ‘‘ دو چہروں کی ناگن کے سوا اور نہیں!

روز ’’البتّہ‘‘ مرے ساتھ

پرندوں کی سحر جاگتے ارمانوں

کے بستر سے اٹھا

سیر کی، غسل کیا

اور مرے ساتھ ہی صبحانہ کیا،

بے سرے گیت بھی گائے

یونہی ’’لیکن‘‘ بھی مرے ساتھ

کسی بوڑھے جہاں گرد کے مانند

لڑھکتا رہا، لنگڑاتا رہا

شام ہوتے ہی وہ ان خوف کے پتلوں کی طرح

جو زمانے سے، کسی شہر میں مدفون چلے آتے ہوں

ناگہاں نیندوں کی الماری میں پھر ڈھیر ہوئے

ان کے خرّانٹوں نے شب بھی مجھے سونے نہ دیا

’’آپ‘‘ البتّہ و لیکن کے سوا اور نہیں

بارہا ایک ہی وہ چہرہ وہ ’’البتّہ‘‘

جسے جانتے ہو

دن کی بیہودہ تگ و تاز میں،

یا شور کے ہنگامِمن و توئی میں

نوحہ گر ہوتا ہے ’’لیکن‘‘ پہ کہ موجود نہیں

بارہا ایک ہی وہ چہرہ وہ ’’لیکن‘‘

جسے پہچانتے ہو

اپنے سنّاٹے کے بالینوں پر

اپنی تنہائی کے آئینوں میں

آپ ہی جھولتا ہے

قہقہے چیختا ہے

اپنے البتہ کی حالت پہ کہ موجود نہیں

آؤ، البتّہ و لیکن کو

کہیں ڈھونڈ نکالیں پھر سے

ان کے بستر پہ نئے پھول بچھائیں

جب وہ وصل پہ آمادہ نظر آئیں

تو (ہم آپ) کسی گوشے میں چپ چاپ سرک جائیں!

ن م راشد