انقلابی

مورخ، مزاروں کے بستر کا بارِ گراں

عروس اُس کی نارس تمناؤں کے سوز سے

آہ بر لب

جدائی کی دہلیز پر، زلف در خاک، نوحہ کناں

یہ ہنگام تھا، جب ترے دل نے اس غمزدہ سے

کہا، لاؤ اب لاؤ دریوزہ ءِ غمزہ ءِ جانستاں

مگر خواہشیں اشہبِ باد پیما نہیں

جو ہوں بھی تو کیا

کو جولاں گہ ءِ وقت میں کس نے پایا ہے

کس کا نشاں؟

یہ تاریخ کے ساتھ چشمک کا ہنگام تھا؟

یہ مانا تجھے یہ گوارا نہ تھا

کہ تاریخ دانوں کے دامِ محبت میں پھنس کر

اندھیروں کی روحِ رواں کو اجالا کہیں

مگر پھر بھی تاریخ کے ساتھ

چشمک کا یہ کون ہنگام تھا؟

جو آنکھوں میں اُس وقت آنسو نہ ہوتے

تو یہ مضطرب جاں،

یہ ہر تازہ و نو بنو رنگ کی دلربا

تری اس پذیرائیِ چشم و لب سے

وفا کے سنہرے جزیروں کی شہزاد ہوتی

ترے ساتھ منزل بمنزل رواں و دواں

اسے اپنے ہی زلف و گیسو کے دامِ ازل سے

رہائی تو ملتی

مگر تُو نے دیکھا بھی تھا

دیوِ تاتار کا حجرہ ءِ تار

جس کی طرف تو اسے کر رہا تھا اشارے

جہاں بام و دیوار میں کوئی روزن نہیں ہے

جہاں چار سُو باد و طوفاں کے مارے ہوئے راہگیروں

کے بے انتہا استخواں ایسے بکھرے پڑے ہیں

ابد تک نہ آنکھوں میں آنسو، نہ لب پر فغاں؟

ن م راشد