آک اور حنا

کیسے بکھری پُھول نیند

کیسے شانوں پہ گِرا اِک چاند گیت،

جس سے میں ظاہر ھوُا

چاند گیت!

اُن گہری ندیوں کے فرازوں کی طرف

لے چل، جہاں

آک کے پہلو میں اُگتی ھے حِنا،

اُن درختوں کی طرف لے چل مجھے

جن کی جانب لوٹ آئے

راہ سے بھٹکے ھوُئے زنبوُر

چھتوں کی طرف

جن سے کرنا ھیں مجھے سرگوشیاں!

مجھ کو لے چل کشت زاروں کے

خزاں کجلائے چہروں کی طرف

جن پہ ماتم کی عنبریں کرنیں جھلک اُٹھی ھیں

گیت!

عشق جیسے روشنائی کا کوئی دھبہ تھا

پیراھن پہ ناگاہاں گِرا

میں نے اُس بپھری جوانی میں

وہ موسیقی کی سرشاری سُنی

میں نے خوشبوُؤں کی پُرباری سُنی

میں نے بازاروں میں گھبرائے ھجوُموں کا

وھی نغمہ، وھی شیون سُنا

جو ھر اِک زخمی سے کہتا ھے کہ :’’آ،

تیرا مزار اب میں ھی ھوُں،

میں وہ مطلع ھوُں جو اُجلا ھی سہی

نارس بھی ھے

میں وہ تصویرِ خداوندی ھوُں، دُھندلائی ھوئی

میں وہ دُنیا ھوُں کہ جس کے لَب نہیں!‘‘

لیکن اپنے زرد آج اور سُرخ کل کے درمیاں

تنگ دوراھے پہ اِک لمحہ بھی تھا

نارنج رنگ!

ھاں، اسی لمحے میں

کتنے راہ سے بھٹکے پرندے

ذہن کے بُرجوں پر آ بیٹھے کہ :’’ھم،

ھم میں کھو جا! ھم تجھے لے جائیں گے

اب اُس حِنا تک

اُگ رھی ھے، آک کے مسموُم پیمانوں کے پاس

اُن سے رس لیتی ھوُئی!‘‘

ن م راشد