آنکھوں کے جال

آہ تیری مدبھری آنکھوں کے جال

میز کی سطحِ درخشندہ کو دیکھ

کیسے پیمانوں کا عکسِ سیمگوں

اس کی بے اندازہ گہرائی میں ہے ڈوبا ہوا

جیسے میری روح، میری زندگی

تیری تابندہ سیہ آنکھوں میں ہے

مے کے پیمانے تو ہٹ سکتے ہیں یہ ہٹتی نہیں

قہوہ خانے کے شبستانوں کی خلوت گاہ میں

آج کی شب تیرا دزدانہ ورود

عشق کا ہیجان، آدھی رات اور تیرا شباب

تیری آنکھ اور میرا دل

عنکبوت اور اس کا بےچارہ شکار

تیرے ہاتھوں میں مگر لرزش ہے کیوں؟)

کیوں ترا پیمانہ ہونٹوں سے ترے ہٹتا نہیں

خام و نو آموز ہے تُو ساحرہ

کر رہی ہے اپنے فن کو آشکار

(اور اپنے آپ پر تجھ کو یقیں حاصل نہیں

پھر بھی ہے تیرے فسوں کے سامنے مجھ کو شکست

میرے تخیلات، میری شاعری بیکار ہیں

اپنے سر پر قمقموں کے نور کا سیلاب دیکھ

جس سے تیرے چہرے کا سایہ ترے سینے پہ ہے

اس طرح اندوہ میری زندگی پر سایہ ریز

تیری آنکھوں کی درخشانی سے ہے

سایہ ہٹ سکتا ہے، غم ہٹتا نہیں

آہ تیری مدبھری آنکھوں کے جال

دیکھ وہ دیوار پر تصویر دیکھ

یہ اگر چاہے کہ اس کا آفرینندہ کبھی

اس کے ہاتھوں میں ہو مغلوب و اسیر

کیسا بے معنی ہو یہ اس کا خیال

اس کو پھر اپنی ہزیمت کے سوا چارہ نہ ہو

تو مری تصویر تھی

میرے ہونٹوں نے تجھے پیدا کیا

آج لیکن میری مدہوشی کو دیکھ

میں کہ تھا خود آفرینندہ ترا

پابجولاں میرے جسم و روح تیرے سامنے

اور دل پر تیری آنکھوں کی گرفتِ ناگزیر

ساحری تیری خداوندی تیری

عکس کیسا بھی ہو فانی ہے مگر

یہ نگاہوں کا فسوں پایندہ ہے

ن م راشد