یہ بھی اے چرخِ ستمگار! کروں یا نہ کروں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 159
نالے دل کھول کے دو چار کروں یا نہ کروں
یہ بھی اے چرخِ ستمگار! کروں یا نہ کروں
مجھ کو یہ وہم کہ انکار نہ ہو جاۓ کہیں
ان کو یہ فکر کہ اقرار کروں یا نہ کروں
لطف جب ہو کہ کروں غیر کو بھی میں بدنام
کہیۓ کیا حکم ہے سرکار! کروں یا نہ کروں
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب