ہم ہمیشہ مشقِ از خود رفتگی کرتے رہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 287
ہم سے خوبانِ جہاں پہلو تہی کرتے رہے
ہم ہمیشہ مشقِ از خود رفتگی کرتے رہے
کثرت آرائ خیالِ ما سوا کی وہم تھی
مرگ پر غافل گمانِ زندگی کرتے رہے
داغہاۓ دل چراغِ خانۂ تاریک تھے
تا مغاکِ قبر پیدا روشنی کرتے رہے
شورِ نیرنگِ بہارِ گلشنِ ہستی، نہ پوچھ
ہم خوشی اکثر رہینِ ناخوشی کرتے رہے
رخصت اے تمکینِ آزارِ فراقِ ہمرہاں
ہوسکا جب تک غمِ واماندگی کرتے رہے
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب