ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 149
رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو
بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیے
کوئی ہم سایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو
پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو بیمار دار @
اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو
@قدیم لفظ ’بیماردار‘ ہی تھا بعد میں لفظ ’تیماردار‘ استعمال کیا جانے لگا توجدید نسخوں میں اس لفظ کو تیماردار لکھا گیا۔
مرزا اسد اللہ خان غالب