ہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 230
غیر لیں محفل میں بوسے جام کے
ہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے
خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہ
ہتھکنڈے ہیں چرخِ نیلی فام کے
خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو
ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے
رات پی زمزم پہ مے اور صبح دم
دھوئے دھبّے جامۂ احرام کے
دل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا مگر
یہ بھی حلقے ہیں تمہارے دام کے
شاہ کی ہے غسلِ صحّت کی خبر
دیکھیے کب دن پھریں حمّام کے
عشق نے غالب نکمّا کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
مرزا اسد اللہ خان غالب