گراک ادا ہو تو اُسے اپنی قضا کہوں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 163
عہدے سے مدِحناز کے باہر نہ آ سکا
گراک ادا ہو تو اُسے اپنی قضا کہوں
حلقے ہیں چشم ہائے کشادہ بسوئے دل
ہر تارِ زلف کو نگہِ سُرمہ سا کہوں
میں، اور صد ہزار نوائے جگر خراش
تو، اور ایک وہ نہ شنیدن کہ کیا کہوں
ظالم مرے گماں سے مجھے منفعل نہ چاہ
ہَے ہَے خُدا نہ کردہ، تجھے بے وفا کہوں
مرزا اسد اللہ خان غالب