چل نکلتے جو مے پیے ہوتے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 216
میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں
چل نکلتے جو مے پیے ہوتے
قہر ہو یا بلا ہو جو کچھ ہو
کاشکے تم مرے لیے ہوتے
میری قسمت میں غم گر اتنا تھا
دل بھی یا رب کئی دیے ہوتے
آ ہی جاتا وہ راہ پر غالب
کوئی دن اور بھی جیے ہوتے
مرزا اسد اللہ خان غالب