مجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 144
تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
مجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو
بچتے نہیں مواخذۂ روزِ حشر سے
قاتل اگر رقیب ہے تو تم گواہ ہو
کیا وہ بھی بے گنہ کش و حق نا شناس@ ہیں
مانا کہ تم بشر نہیں خورشید و ماہ ہو
ابھرا ہوا نقاب میں ہے ان کے ایک تار
مرتا ہوں میں کہ یہ نہ کسی کی نگاہ ہو
جب مے کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قید
مسجد ہو، مدرسہ ہو، کوئی خانقاہ ہو
سنتے ہیں جو بہشت کی تعریف، سب درست
لیکن خدا کرے وہ ترا جلوہ گاہ ہو
غالب بھی گر نہ ہو تو کچھ ایسا ضرر نہیں
دنیا ہو یا رب اور مرا بادشاہ ہو
@حق ناسپاس نسخۂ نظامی میں ہےٍ، حق نا شناس۔ حسرت، مہراور عرشی میں۔ ’ناسپاس‘ کتابت کی غلطی بھی ممکن ہے۔
مرزا اسد اللہ خان غالب