قمری کا طوق حلقۂ بیرونِ در ہے آج

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 116
گلشن میں بند وبست بہ رنگِ دگر ہے آج
قمری کا طوق حلقۂ بیرونِ در ہے آج
آتا ہے ایک پارۂ دل ہر فغاں کے ساتھ
تارِ نفس کمندِ شکارِ اثر ہے آج
اے عافیت! کنارہ کر، اے انتظام! چل
سیلابِ گریہ در پےِ دیوار و در ہے آج
مرزا اسد اللہ خان غالب