غرورِ دوستی آفت ہے ، تُو دُشمن نہ ہو جائے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 206
خطر ہے رشتۂ اُلفت رگِ گردن نہ ہو جائے
غرورِ دوستی آفت ہے ، تُو دُشمن نہ ہو جائے
سمجھ اس فصل میں کوتاہئ نشوونما ، غالب!
اگر گُل سَرو کے قامت پہ ، پیراہن نہ ہو جائے
مرزا اسد اللہ خان غالب