عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 78
سراپا رہنِ عشق و ناگزیرِ الفتِ ہستی
عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
بقدرِ ظرف ہے ساقی! خمارِ تشنہ کامی بھی
جوتو دریائے مے ہے، تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
مرزا اسد اللہ خان غالب