رکھتے ہیں عشق میں یہ اثر ہم جگر جلے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 225
اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے
رکھتے ہیں عشق میں یہ اثر ہم جگر جلے
پروانہ خانہ غم ہو تو پھر کس لئے اسدؔ
ہر رات شمع شام سے لے تا سحر جلے
مرزا اسد اللہ خان غالب