خارِ پا ہیں جوہرِ آئینۂ زانو مجھے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 238
پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد
خارِ پا ہیں جوہرِ آئینۂ زانو مجھے
دیکھنا حالت مرے دل کی ہم آغوشی کے وقت@
ہے نگاہِ آشنا تیرا سرِ ہر مو مجھے
ہوں سراپا سازِ آہنگِ شکایت کچھ نہ پوچھ
ہے یہی بہتر کہ لوگوں میں نہ چھیڑے تو مجھے
@ نسخۂ مہرمیں ” ہم آغوشی کے بعد”
مرزا اسد اللہ خان غالب