جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 258
مری ہستی فضائے حیرت آبادِ تمنّا ہے
جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
خزاں کیا فصلِ گل کہتے ہیں کس کو؟ کوئی موسم ہو
وہی ہم ہیں، قفس ہے، اور ماتم بال و پر کا ہے
وفائے دلبراں ہے اتّفاقی ورنہ اے ہمدم
اثر فریادِ دل ہاے حزیں کا کس نے دیکھا ہے
نہ لائی@ شوخئ اندیشہ تابِ رنجِ نومیدی
کفِ افسوس ملنا عہدِ تجدیدِ تمنّا ہے
@ نہ لائے ۔ نسخۂ مہر
مرزا اسد اللہ خان غالب