تسکیں کو دے نوید@ کہ مرنے کی آس ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 248
سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہے
تسکیں کو دے نوید@ کہ مرنے کی آس ہے
لیتا نہیں مرے دلِ آوارہ کی خبر
اب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے
کیجے بیاں سرورِ تبِ غم کہاں تلک
ہر مو مرے بدن پہ زبانِ سپاس ہے
ہے وہ غرورِ حسن سے بیگانۂ وفا
ہرچند اس کے پاس دلِ حق شناس ہے
پی جس قدر ملے شبِ مہتاب میں شراب
اس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے
ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدؔ
مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے
@ نسخۂ عرشی میں یوں ہے: ’تسکین کو نوید‘۔ اصل نظامی اور دوسرے نسخوں میں اسی طرح ہے۔
مرزا اسد اللہ خان غالب