بھولا ہوں حقِّ صحبتِ اہلِ کُنِشت کو

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 139
کعبے میں جا رہا، تو نہ دو طعنہ، کیا کہیں
بھولا ہوں حقِّ صحبتِ اہلِ کُنِشت کو
طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ
دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
ہوں منحرف نہ کیوں رہ و رسمِ ثواب سے
ٹیڑھا لگا ہے قط قلمِ سرنوشت کو
غالب کچھ اپنی سعی سے لہنا@ نہیں مجھے
خرمن جلے اگر نہ مَلخ کھائے کشت کو
مرزا اسد اللہ خان غالب