برق سے کرتے ہیں روشن، شمعِ ماتم خانہ ہم

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 134
غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
برق سے کرتے ہیں روشن، شمعِ ماتم خانہ ہم
محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ خیال
ہیں ورق گردانــئ نیرنگِ یک بت خانہ ہم
باوجودِ یک جہاں ہنگامہ پیرا ہی نہیں
ہیں "چراغانِ شبستانِ دلِ پروانہ” ہم
ضعف سے ہے، نے قناعت سے یہ ترکِ جستجو
ہیں "وبالِ تکیہ گاہِ ہِمّتِ مردانہ” ہم
دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمنّائیں اسدؔ
جانتے ہیں سینۂ پُر خوں کو زنداں خانہ ہم
مرزا اسد اللہ خان غالب