انہیں ہنساکے رلانا بھی کوئ بات نہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 180
کرم ہی کچھ سببِ لطف و التفات نہیں
انہیں ہنساکے رلانا بھی کوئ بات نہیں
کہاں سے لاکے دکھاۓ گی عمرِ کم مایہ
سیہ نصیب کو وہ دن کہ جس میں رات نہیں
زبان حمد کی خوگر ہوئ تو کیا حاصل
کہ تیری ذات میں شامل تری صفات نہیں
خوشی، خوشی کو نہ کہہ، غم کو غم نہ جان اسدؔ
قرار داخلِ اجزاۓ کائنات نہیں
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب