امتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 202
نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلّی نہ سہی
امتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی
خار خارِ المِ حسرتِ دیدار تو ہے
شوق گلچینِ گلستانِ تسلّی نہ سہی
مے پرستاں خمِ مے منہ سے لگائے ہی بنے
ایک دن گر نہ ہوا بزم میں ساقی نہ سہی
نفسِ قیس کہ ہے چشم و چراغِ صحرا
گر نہیں شمعِ سیہ خانۂ لیلی نہ سہی
ایک ہنگامے پہ@ موقوف ہے گھر کی رونق
نوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی
نہ ستائش کی تمنّا نہ صلے کی پروا
گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی؟ نہ سہی
عشرتِ صحبتِ خوباں ہی غنیمت سمجھو
نہ ہوئی غالب اگر عمرِ طبیعی نہ سہی
@ نسخۂ مہر میں "پر”
مرزا اسد اللہ خان غالب