اترائے کیوں نہ خاک سرِ رہگزار کی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 197
روندی ہوئی ہے کوکبہ شہریار کی
اترائے کیوں نہ خاک سرِ رہگزار کی
جب اس کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہ
لوگوں میں کیوں نمود نہ ہو لالہ زار کی
بُھوکے نہیں ہیں سیرِ گلستان کے ہم ولے
کیوں کر نہ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی
مرزا اسد اللہ خان غالب