کس مرتبے میں ہو گی سینوں کی خستہ حالی

دیوان ششم غزل 1903
جمع افگنی سے ان نے ترکش کیے ہیں خالی
کس مرتبے میں ہو گی سینوں کی خستہ حالی
درگیر کیونکے ہو گی اس سفلہ خو سے صحبت
دیوانگی یہ اتنی وہ اتنا لاابالی
بے اختیار شاید آہ اس سے کھنچ گئی ہو
جب صورت ایسی تیری نقاش نے نکالی
اتنی سڈول دیہی دیکھی نہ ہم سنی ہے
ترکیب اس کی گویا سانچے میں گئی ہے ڈھالی
وصل و فراق دونوں بے حالی ہی میں گذرے
اب تک مزاج کی میں پاتا نہیں بحالی
میں خاکسار ان تک پہنچی دعا نہ میری
وے ہفتم آسماں پر ان کا دماغ عالی
آنکھیں فلک کی لاکھوں تب جھپتیاں ہی دیکھیں
مانند برق خاطف تیغ ان نے جب نکالی
کل فتنہ زیر سر تھے جو لوگ کٹ گئے سب
پھر بھی زمین سر پر یاروں نے آج اٹھا لی
طفلی میں ٹیڑھی سیدھی ٹوپی کا ہوش کب تھا
پگڑی ہی پھیر رکھی ان نے جو سدھ سنبھالی
معقول اگر سمجھتے تو میر بھی نہ کرتے
لڑکوں سے عشق بازی ہنگام کہنہ سالی
میر تقی میر