پیمبر دل ہے قبلہ دل خدا دل

دیوان ششم غزل 1836
طریق عشق میں ہے رہنما دل
پیمبر دل ہے قبلہ دل خدا دل
قیامت تھا مروت آشنا دل
موئے پر بھی مرا اس میں رہا دل
رکا اتنا خفا اتنا ہوا تھا
کہ آخر خون ہو ہوکر بہا دل
جسے مارا اسے پھر کر نہ دیکھا
ہمارا طرفہ ظالم سے لگا دل
نہ تھی سہل استقامت اس کی لیکن
خرام ناز دلبر لے گیا دل
بدن میں اس کے تھی ہرجاے دلکش
بجا بے جا ہوا ہے جا بجا دل
گئے وحشت سے باغ و راغ میں تھے
کہیں ٹھہرا نہ دنیا سے اٹھا دل
اسیری میں تو کچھ واشد کبھو تھی
رہا غمگیں ہوا جب سے رہا دل
ہمہ تن میں الم تھا سو نہ جانا
گرہ یہ درد ہے پہلو میں یا دل
خموشی مجھ کو حیرت سے ہے ورنہ
بھرے ہیں لب سے لے کر شکوے تا دل
نہ پوچھا ان سے جس بن خوں ہوا سب
نہ سمجھا اس کے کینے کی ادا دل
ہوا پژمردہ و بے صبر و بے تاب
کرے گا اس طرح کب تک وفا دل
ہوئی پروا نہ واں دلبر کو یاں میر
اٹھا کر ہوچکا جور و جفا دل
میر تقی میر