پیر فقیر اس بے دنداں کو ان نے دنداں مزد دیا

دیوان ششم غزل 1806
آج اس خوش پرکار جواں مطلوب حسین نے لطف کیا
پیر فقیر اس بے دنداں کو ان نے دنداں مزد دیا
آنسو کی بوند آنکھوں سے دونوں اب تو نکلتی ایک نہیں
دل کے طپیدن روز و شب نے خوب جگر کا لوہو پیا
مرتے جیسے صبر کیا تھا ویسی ہی بے صبری کی
ہائے دریغ افسوس کوئی دن اور نہ یہ بیمار جیا
ہاتھ رکھے رہتا ہوں دل پر برسوں گذرے ہجراں میں
ایک دن ان نے گلے سے مل کر ہاتھ میں میرا دل نہ لیا
میر تقی میر