پھوٹی سہتے ہیں آنجی سہتے نہیں

دیوان ششم غزل 1843
ایسے دیکھے ہیں اندھے لوگ کہیں
پھوٹی سہتے ہیں آنجی سہتے نہیں
مر گئے ناامید ہم مہجور
خواہشیں جی کی اپنے جی میں رہیں
دیر دریا کنارہ کرتا رہا
عشق میں آنکھیں اپنی زور بہیں
مرتے تھے اس گلی میں لاکھوں جہاں
ہم بھی مارے گئے ندان وہیں
دیر سے میر اٹھ کے کعبے گئے
کہیے کیا نکلے جا کہیں کے کہیں
میر تقی میر