پھولا پھرے ہے مرغ چمن باغ باغ ہے

دیوان ششم غزل 1893
کیا منھ لگے گلوں کے شگفتہ دماغ ہے
پھولا پھرے ہے مرغ چمن باغ باغ ہے
وہ دل نہیں رہا ہے نہ اب وہ دماغ ہے
جی تن میں اپنے بجھتا سا کوئی چراغ ہے
قامت سے اس کی سرنگوں رہتے ہیں سرو و گل
خوبی سے اس کی لالۂ صد برگ داغ ہے
یارب رکھیں گے پنبہ و مرہم کہاں کہاں
سوز دروں سے ہائے بدن داغ داغ ہے
مدت ہوئی کہ زانو سے اٹھتا نہیں ہے سر
کڑھنے سے رات دن کے ہمیں کب فراغ ہے
گھر گھر پھرے ہے جھانکتی ہر صبح جو نسیم
پردے میں کوئی ہے کہ یہ اس کا سراغ ہے
صولت فقیری کی نہ گئی مر گئے پہ بھی
اب چشم شیر گور کا میری چراغ ہے
لگ نکلی ہے کسو کی مگر بکھری زلف سے
آنے میں باد صبح کے یاں اک دماغ ہے
نابخردی سے مرغ دل ناتواں پہ میر
اس شوخ لڑکے سے مجھے باہم جناغ ہے
میر تقی میر