نکلے نہ ناامیدی کیونکر مری نظر سے

دیوان ششم غزل 1885
لاکھوں فلک کی آنکھیں سب مند گئیں ادھر سے
نکلے نہ ناامیدی کیونکر مری نظر سے
برسے ہے عشق یاں تو دیوار اور در سے
روتا گیا ہے ہر اک جوں ابر میرے گھر سے
جو لوگ چلتے پھرتے یاں چھوڑ کر گئے تھے
دیکھا نہ ان کو اب کے آئے جو ہم سفر سے
قاصد کسو نے مارا خط راہ میں سے پایا
جب سے سنا ہے ہم نے وحشت ہے اس خبر سے
سو بار ہم تو تم بن گھر چھوڑ چھوڑ نکلے
تم ایک بار یاں تک آئے نہ اپنے گھر سے
چھاتی کے جلنے سے ہی شاید کہ آگ سلگی
اٹھنے لگا دھواں اب میرے دل و جگر سے
نکلا سو سب جلا ہے نومید ہی چلا ہے
اپنا نہال خواہش برگ و گل و ثمر سے
جھڑ باندھنے کا ہم بھی دیں گے دکھا تماشا
ٹک ابر قبلہ آکر آگے ہمارے برسے
سو نامہ بر کبوتر کر ذبح ان نے کھائے
خط چاک اڑے پھریں ہیں اس کی گلی میں پر سے
آخر گرسنہ چشم نظارہ ہو گئے ہم
ٹک دیکھنے کو اس کے برسوں مہینوں ترسے
اپنا وصول مطلب اور ہی کسی سے ہو گا
منزل پہنچ رہیں گے ہم ایسے رہگذر سے
سر دے دے مارتے ہیں ہجراں میں میر صاحب
یارب چھڑا تو ان کو چاہت کے درد سر سے
میر تقی میر