مستی کی دیر میں قسم اقسام کر چکے

دیوان ششم غزل 1912
ہم رہن بادہ جامۂ احرام کرچکے
مستی کی دیر میں قسم اقسام کر چکے
جامہ ہی وجہ مے میں ہمارا نہیں گیا
دستار و رخت سب گرو جام کرچکے
زنار پہنا سبحہ کے رشتے کے تار توڑ
ترک نماز و روزہ و اسلام کرچکے
جپ کرنے بیٹھے مالا لیے پیش روے بت
کفر اختیار کرنے میں ابرام کرچکے
صندل کے قشقے دیکھ برہمن بچوں کے صبح
عاشق ہوئے سو آپ کو بدنام کرچکے
واسوختہ ہو دیر سے کعبے کو پھر گئے
سو بار اضطراب سے پیغام کرچکے
شکر و گلہ صنم کدے کا حرف حرف میر
کعبے کے رہنے والوں کو ارقام کرچکے
میر تقی میر