شہرۂ عالم تھے اس کے ناز برداروں میں ہم

دیوان ششم غزل 1841
کیا زمانہ تھا کہ تھے دلدار کے یاروں میں ہم
شہرۂ عالم تھے اس کے ناز برداروں میں ہم
اجڑی اجڑی بستی میں دنیا کی جی لگتا نہیں
تنگ آئے ہیں بہت ان چار دیواروں میں ہم
جو یہی ہے غم الم رنج و قلق ہجراں کا تو
زندگی سے بے توقع ہیں ان آزاروں میں ہم
شاید آوے حال پرسی کرنے اس امید پر
کب سے ہیں دارالشفا میں اس کے بیماروں میں ہم
دھوپ میں جلتے ہیں پہروں آگے اس کے میرجی
رفتگی سے دل کی ٹھہرے ہیں گنہگاروں میں ہم
میر تقی میر