دیتا ہے جان عالم اس کی جفا کے اوپر

دیوان ششم غزل 1826
میلان دلربا ہو کیونکر وفا کے اوپر
دیتا ہے جان عالم اس کی جفا کے اوپر
کشتہ ہوں اس حیا کا کٹوائے بہتوں کے سر
پر آنکھیں اس کی وونہیں تھیں پشت پا کے اوپر
مہندی لگا کے ہرگز گھر سے تو مت نکلیو
ہوتے ہیں خون تیرے رنگ حنا کے اوپر
ہوں کو بہ کو صبا سا پر کچھ نہیں ہے حاصل
شاید برات اپنی لکھی ہوا کے اوپر
بندوں سے کام تیرا اے میر کچھ نہ نکلا
موقوف مطلب اپنا اب رکھ خدا کے اوپر
میر تقی میر