جو حادثہ فلک سے نازل ہوا زمیں پر

دیوان ششم غزل 1828
باندھے کمر سحرگہ آیا ہے میرے کیں پر
جو حادثہ فلک سے نازل ہوا زمیں پر
اقرار میں کہاں ہے انکار کی سی خوبی
ہوتا ہے شوق غالب اس کی نہیں نہیں پر
کنج قفس میں جوں توں کاٹیں گے ہم اسیراں
سیر چمن کے شایاں اپنے رہے نہیں پر
جوں آب گیری کردہ شمشیر کی جراحت
ہے ہر خراش ناخن رخسارہ و جبیں پر
آخر کو ہے خدا بھی تو اے میاں جہاں میں
بندے کے کام کچھ کیا موقوف ہیں تمھیں پر
غصے میں عالم اس کا کیا کیا نظر پڑا ہے
تلواریں کھنچتیاں تھیں اس کی جبیں کی چیں پر
تھے چشم خوں فشاں پر شاید کہ دست و دامن
ہیں میر داغ خوں کے پیراہن آستیں پر
میر تقی میر