جوں توں اپنا کیا نباہا ہے

دیوان ششم غزل 1876
کچھ نہ کی ان نے جس کو چاہا ہے
جوں توں اپنا کیا نباہا ہے
سدھ خبر اپنے غمزدے کی لے
صبح تک رات کو کراہا ہے
یاعلیؓ ہے گا میر پیر فقیر
اب سزاوار لطف شاہا ہے
میر تقی میر