جوانوں کو انھیں ایام میں زنجیر کرتے ہیں

دیوان ششم غزل 1847
بہار آئی مزاجوں کی سبھی تدبیر کرتے ہیں
جوانوں کو انھیں ایام میں زنجیر کرتے ہیں
برہمن زادگان ہند کیا پرکار سادے ہیں
مسلمانوں کی یارانے ہی میں تکفیر کرتے ہیں
موئے پر اور بھی کچھ بڑھ گئی رسوائی عاشق کی
کہ اس کی نعش کو اب شہر میں تشہیر کرتے ہیں
ہمارے حیرت عشقی سے چپ رہ جانے کی اس سے
مخالف مدعی کس کس طرح تقریر کرتے ہیں
تماشا دیکھنا منظور ہو تو مل فقیروں سے
کہ چٹکی خاک کو لے ہاتھ میں اکسیر کرتے ہیں
نہ لکھتے تھے کبھو یک حرف اسے جو ہاتھ سے اپنے
سو کاغذ دستے کے دستے ہم اب تحریر کرتے ہیں
در و دیوار افتادہ کو بھی کاش اک نظر دیکھیں
عمارت ساز مردم گھر جو اب تعمیر کرتے ہیں
خدا ناکردہ رک جاؤں جہاں رک جائے گا سارا
غلط کرتے ہیں لڑکے جو مجھے دلگیر کرتے ہیں
اسے اصرار خوں ریزی پہ ہے ناچار ہیں اس میں
وگرنہ عجزتابی تو بہت سی میر کرتے ہیں
میر تقی میر