جانا ہی تھا ہمیں بھی بہار چمن کے ساتھ

دیوان ششم غزل 1869
اب دل خزاں میں رہتا ہے جی کی رکن کے ساتھ
جانا ہی تھا ہمیں بھی بہار چمن کے ساتھ
کب تک خراب شہر میں اس کے پھرا کریں
اب جاویں یاں سے کوئی غریب الوطن کے ساتھ
ہم باغ سے خزاں میں گئے پر ہزار حیف
جانا بنا نہ اپنا گل و یاسمن کے ساتھ
لکنت سے کیا نکلتی نہیں اس کے منھ سے بات
چپکا ہے حرف یار کے شیریں دہن کے ساتھ
جی خواب مرگ لے گئی حسرت ہی میں ندان
اک شب نہ سوئے ہم کسو گل پیرہن کے ساتھ
جی پھٹ گیا ہے رشک سے چسپاں لباس کے
کیا تنگ جامہ لپٹا ہے اس کے بدن کے ساتھ
کیا جانیں لوگ عشق کا راز و نیاز میر
اک بات اس سے ہو گئی دو دو بچن کے ساتھ
میر تقی میر