تہ کر صنم خانے چلا ہوں جامۂ احرام کو

دیوان ششم غزل 1861
چھوڑا جنوں کے دور میں رسم و رہ اسلام کو
تہ کر صنم خانے چلا ہوں جامۂ احرام کو
مرتا مرو جیتا جیو آئو کوئی جائو کوئی
ہے کام ہم لوگوں سے کیا اس دلبر خود کام کو
جس خودنما تک جائوں ہوں اس سے سنوں ہوں دور دور
کیا منھ لگاوے اب کوئی اس رو سیہ بدنام کو
بے چین بستر پر رہا بے خواب خاکستر پہ ہوں
صبر و سکوں جب سے گئے پایا نہیں آرام کو
آسائش و راحت سے جو پوچھے کوئی تو کیا کہوں
میں عمر بھر کھینچا کیا رنج و غم و آلام کو
میر اب بھلا کیا ابتداے عشق کو روتا ہے تو
کر فکر جو پاوے بھی اس آغاز کے انجام کو
میر تقی میر