تلاش جوش بہار میں کی نگار گلشن میں تھا نہ اپنا

دیوان ششم غزل 1802
گئے تھے سیر چمن کو اٹھ کر گلوں میں ٹک جی لگا نہ اپنا
تلاش جوش بہار میں کی نگار گلشن میں تھا نہ اپنا
ملا تو تھا وہ بخواہش دل مزہ بھی پاتے ملے سے لیکن
پھریں جو مستی میں اس کی آنکھیں سو ہوش ہم کو رہا نہ اپنا
جہاں کا دریاے بیکراں تو سراب پایان کار نکلا
جو لوگ تہ سے کچھ آشنا تھے انھوں نے لب تر کیا نہ اپنا
نکالی سرکش نے چال ایسی کہ دیکھ حیرت سے رہ گئے ہم
دلوں میں کیا کیا ہمارے آیا کریں سو کیا بس چلا نہ اپنا
کہے بھی کوئی تو اس سے جس میں سخن کسو کا اثر کرے کچھ
بکا کیے ہم ہمیشہ مانا کسو دن ان نے کہا نہ اپنا
نہ ہوش ہم کو نہ صبر دل کو نہ شور سر میں نہ زور پا میں
جو روویں کس کس کو روویں اب ہم وفا میں کیا کیا گیا نہ اپنا
جہاں میں رہنے کو جی بہت تھا نہ کرسکے میر کچھ توقف
بنا تھی ناپائدار اس کی اسی سے رہنا بنا نہ اپنا
میر تقی میر