بے مروت اس زمانے میں ہمہ حیرت ہے اب

دیوان ششم غزل 1812
آئینہ سا جو کوئی یاں آشنا صورت ہے اب
بے مروت اس زمانے میں ہمہ حیرت ہے اب
کیا کوئی یاری کسو سے کرکے ہووے شاد کام
دوستی ہے دشمنی الفت نہیں کلفت ہے اب
چاہتا ہے درد دل کرنا کسو سے دل دماغ
سو دماغ اپنا ضعیف اور قلب بے طاقت ہے اب
کیونکے دنیا دنیا رسوائی مری موقوف ہو
عالم عالم مجھ پہ اس کے عشق کی تہمت ہے اب
اشک نومیدا نہ پھرتے ہیں مری آنکھوں کے بیچ
میر یہ دے ہے دکھائی جان کی رخصت ہے اب
میر تقی میر